آرٹیکل 62، 63 کا اطلاق ارکان پارلیمنٹ پرہوتا ہے،نااہلی کیس میں زلفی بخاری کا جواب

  • IMG_20181205_084633.jpg

Zulfi

آرٹیکل 62، 63 کا اطلاق ارکان پارلیمنٹ پرہوتا ہے،نااہلی کیس میں زلفی بخاری کا جواب


an image
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری—۔فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری نے نااہلی کیس میں سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا دیا، جس میں نااہلی کی درخواست خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

زلفی بخاری کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ وہ رکن پارلیمنٹ نہیں ہیں جبکہ آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق صرف ارکان پارلیمنٹ پر ہوتا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے اپنے جواب میں سپریم کورٹ میں نااہلی کے لیے دائر درخواست خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ برطانیہ میں پیدا ہوئے، بعد میں شہریت حاصل نہیں کی۔

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں وزیراعظم کی معاونت کررہے ہیں۔

an image

وزیراعظم نے زلفی بخاری کو معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی مقرر کردیا

ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عالمی اداروں سے معاونت لی جا سکتی ہے تو دہری شہریت والے سے کیوں نہیں؟ جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق عدالت نے دیا ہے۔

زلفی بخاری کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کو معاون خصوصی تعینات کرنے کا مکمل حق ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے قریبی دوست زلفی بخاری کو 18 ستمبر کو اپنا معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی مقرر کرتے ہوئے انہیں وزیر مملکت کا درجہ دیا تھا۔

تاہم درخواست گزار عادل چھٹہ نے زلفی بخاری کی بطور معاون خصوصی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

an image

زلفی بخاری کی بطور معاون خصوصی تقرری سپریم کورٹ میں چیلنج

درخواست گزار  نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ دہری شہریت کا حامل شخص رکن قومی اسمبلی منتخب نہیں ہو سکتا جبکہ معاون خصوصی نے بھی وہی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں، جو ایک منتخب رکن اسمبلی کرتا ہے۔

درخواست میں زلفی بخاری کو فوری طور پر کام سے روکتے ہوئے ان کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

درخواست میں وزیراعظم عمران خان اور کابینہ ڈویژن کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ جو کام براہ راست نہیں ہوسکتا وہ بلا واسطہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ زلفی بخاری وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت سے قبل وہ عمران خان کے ہمراہ عمرے پر روانہ ہو رہے تھے کہ ان کا نام بلیک لسٹ میں ہونے کی وجہ سے امیگریشن حکام نے انہیں بیرون ملک جانے سے روک دیا تھا، تاہم کچھ دیر بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

زلفی بخاری کا نام آف شور کمپنیوں کے باعث پاناما لیکس میں بھی آیا ہے جس کی بناء پر نیب میں ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور اس سلسلے میں وہ کئی بار نیب میں پیش بھی ہوچکے ہیں۔

Comments

comments