اسٹاک ایکسچینج میں مندی سرمایہ کاروں کے کھربوں روپے ڈوب گئے

  • 1449068-Stockindexonline-1543980993-352-640x480.jpg

پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالرکی قدر بڑھنے اور شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافے کے باعث کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیرکو پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروبارحصص زبردست مندی کا شکار رہا ۔ انڈیکس میں 335 پوائنٹس کی کمی سے سرمایہ کاروں کے کھربوں روپے ڈوب گئے۔

اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال بھی پل میں تولہ، پل میں ماشہ والی ہے، دراصل پاکستان میں اسٹاک ایکسچینج بروکرزکی مرضی کے مطابق چلتی ہے۔ افواہ سازی کی صنعت بھی اسٹاک مارکیٹ پر اثرانداز ہوتی ہے ۔ بازارِحصص میں ایک اندازے کے مطابق دو لاکھ کے قریب سرمایہ کار ہیں، جن میں سے 40 سے 50 فیصد ہی باقاعدہ سے معاملات کو دیکھتے ہیں۔ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ میں مقامی طور ہونے والی کسی پیش رفت کا بھی اثر پڑتا ہے جیسا کہ سعودی عرب سے امدادی پیکیج ملنے کے بعد مارکیٹ کے حصص میں تیزی آئی تھی۔

امریکا یا ہمسایہ ملک انڈیا میں اسٹاک ایکسچینج میں متوسط طبقے کی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد شامل ہے جو اسٹاک ایکسچینج کے معاملات میں فعال ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اس وقت غیر ملکی سرمایہ کار مارکیٹ سے سرمایہ نکال رہے ہیں، اگر یہ سلسلہ رک جائے توصورتحال میں بہتری آنے کا امکان ہے۔

اخباری خبروں کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس تقریباً اس وقت سے دباؤکا شکار تھا جب سے موجودہ حکومت آئی ہے، جس میں ایک بڑی وجہ حکومت کے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے پاس جانے یا نہ جانے کے فیصلے پر پائی جانے والی کشمکش تھی۔لیکن رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں وزیراعظم عمران خان نے بیرونی ادائیگیوںکے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا عندیہ دیا تو اس سے اگلے ہی دن انڈیکس 1100 پوائنٹس تک گرگیا تھا۔

بازارِ حصص میں شدید مندی کے رحجان کو روکنے کے لیے حکومت کو ٹھوس بنیادوں پر ایسی معاشی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے، جو ملکی معیشت کو استحکام دیں۔ روپے کی قدرکو مستحکم بنانے کے لیے ایسے عناصر کی روک تھام کرنی پڑے گی جو مصنوعی بحران پیدا کرتے ہیں ۔ حکومت کو معاشی رٹ قائم کرنے کے لیے دور رس اقدامات جنگی بنیادوں پرکرنے چاہئیں ۔

Comments

comments