برطانیہ میں منی لانڈرنگ کے الزام میں زیر حراست لیے جانے والے پاکستانی شہری سندھ حکومت کے گریڈ 18 کے افسر فرحان جونیجو ہیں

  • IMG-20180918-WA0031.jpg

ایف آئی اے نے ٹڈاپ اسکینڈل میں سابق وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کے دست راست اور بیرون ملک موجود ڈائریکٹر ٹو منسٹر فرحان احمد جونیجو کی واپسی کے لئے حتمی ریڈ وارنٹ جاری کر نے کا فیصلہ 2016 میں کیا تھا ، مفرور ملزم نے مذکورہ اسکینڈل سے حاصل کردہ 750 ملین کی رقم بذریعہ حوالہ اور ہنڈی برطانیہ منتقل کی تھی ۔ ذرائع کے مطابق ٹڈاپ اسکینڈل کے ضمن میں منی لانڈرنگ کے الزام میں ملکی تاریخ کے درج کردہ پہلے مقدمے کے فرحان احمد جونیجو نامی ملزم کو وطن واپس لانے کے لئے ایف آئی اے نے حتمی ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ 2016 میں کیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت میں ٹڈاپ اسکینڈل کے مرکزی ملزم فرحان جو نیجو سندھ حکومت سے ڈیپوٹیشن پروزارت تجارت میں بطور ڈائریکٹر تعینات ہوئے تھے ، پاکستان کے ساتھ ساتھ برطانوی شہریت کے حامل اور مخدوم امین فہیم کے دست راست سمجھے جانے والے فرحان جونیجو نے 750 ملین کے لگ بھگ رقم بیرون ملک موجود اپنی والدہ ، بہن ، بھائی اور بیوی کے ساتھ اپنے مشترکہ ا کاونٹس میں منتقل کی تھیں، مذکورہ رقم ملزم نے اہم شخصیت کے نام پر بطور فرنٹ مین وصول کی تھیں ۔ یاد رہے کہ مذکورہ رقم کی بذریعہ حوالہ ہنڈی منتقلی کے الزام میں فرحان جونیجو کے خلاف درج کیا گیا مقدمہ ملکی تاریخ کا منی لانڈنگ کے الزام میں پہلا مقدمہ تھا ۔ ذرائع کے مطابق اکتوبر 2009 میں ہالینڈ میں منعقدہ ایکسپو میں کراچی کی فار ایسٹ اورینٹیل ٹریڈنگ کمپنی نامی ایسی کمپنی کو پاکستانی پویلین کے حقوق دینے کے حوالے سے بھی فر حان جونیجوکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ، جس کے لئے ہالینڈ کی وزارت خارجہ نے خط وکتابت کا آغاز سال 2009کے وسط میں کیا ، جبکہ مبینہ طور پر فرحان جونیجو اور وزارت تجارت کی جانب سے مزکورہ کمپنی کو نامزدگی کا اہل2011کے آغاز میں قرار دیا گیا، جبکہ مذکورہ اجازت نامے کے عوض بھی کک بیک وصول کیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت سابق وزیر تجارت کی جانب سے فرنٹ مینوں کے ذریعے اسکینڈل کی رقم سے مبینہ طور پر کک بیک وصول کرنے کے حوالے سے جو شواہد ایف آئی اے کے پاس موجود ہیں ، ان فرنٹ مینوں میں فرحان جونیجو نامی سرفہرست ہے جبکہ کراچی سے تعلق رکھنے والا افتخار احمد خان نامی شخص اس ضمن میں مبینہ طور پر فرحان جونیجو کا مڈل مین تھا ۔ یاد رہے کہ فرحان جونیجو اس وقت برطانیہ میں مفرور ہے جس کی گرفتاری اور رہاٸی کی خبر آج آٸی ، جبکہ ایف آئی اے نے ٹڈاپ اسکینڈل میں جعلی کمپنیوں کے ذریعے کروڑوں روپے سبسڈی کلیمز وصولی کے الزام میں سابق وزیر تجارت کے گرفتار پرائیوٹ سیکرٹری اسلم پیر زادہ اور فرحان جونیجو کی ملی بھگت پر مبنی مقدمہ بھی درج کر رکھا ہے، ذرائع کے مطابق کرپشن کی رقم سے پیپلز پارٹی کی ایک اہم ترین شخصیت اور انکے اہل خانہ کے لئے مبینہ طور پر بیرون ملک سفر پر مبنی ٹکٹوں کی خریداری اور اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی گئیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر تجارت کے انتقال کے باعث اس ضمن میں درج مقدمات کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے تفتیشی حکام نے فرحان جو نیجو کی ہر ممکن وطن واپسی کے لئے انٹرپول کے ذریعے حتمی ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ 2016 میں کیا ہے۔ جس میں ابھی گرفتاری ہوٸی لیکن برطانیہ نے تحقیقات مکمل ہونے تک فرحان اور اس کی اہلیہ کو رہا کردیا ہے برطانیہ میں منی لانڈرنگ کے الزام میں زیر حراست لیے
جانے والے پاکستانی شہری سندھ حکومت کے گریڈ 18 کے افسر فرحان جونیجو ہیں فرحان جونیجو سابق وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کی دست راست تھے، مخدوم امین فہیم نے منسٹری میں ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کیا تھا ایف آئی اے کراچی نے سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی، امین فہیم اور فرحان جونیجو کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کا سراغ لگایا تھا، فرحان جونیجو نے نجی بینک کے افسران کی مدد سے 25 کروڑ روپے دبئی، برطانیہ، امریکا اور سوئٹزرلینڈ منتقل کیے نجی بینک کا ایک اعلی افسر اور ایک منی چینجر منی لانڈرنگ میں ملوث تھا رشوت کی رقم فرحان جونیجو کی اہلیہ، ان کی والدہ اور بھائیوں کے غیرملکی اکاونٹس میں منتقل کی گئی

Comments

comments