سیہون کے قریب روڈ حادثے میں ہلاک آٹھ افراد کی لاشیں میمن گوٹھ پہنچنے پر کہرام برپا

  • IMG-20180901-WA0559.jpg

سیہون کے قریب روڈ حادثے میں ہلاک آٹھ افراد کی لاشیں میمن گوٹھ پہنچنے پر کہرام برپا ، دو زخمی ہسپتال میں زیر علاج ، نوجوان بیٹوں کی لاشیں دیکھ کر والدہ بیہوش ہوگئیں ، ہزاروں افراد کی آہوں اور سسکیوں میں لاشوں کی تدفین ، منتخب کسی بھی نمائندے نے نماز جنازہ میں شرکت نہ کی ، علاقے میں عوام شدید مشتعل ، بازاریں اور کاروبار بند ، مختلف محلوں میں تعزیتوں کا سلسلہ جاری ، کاروباری افراد کا حادثے کے اسباب کے خلاف احتجاج ، روڈ کی مرمت نہ کرنا ، ہسپتالوں میں ہنگامی طبی سہولیات کا نہ ہونا حادثے کا سبب بنا ، ہلاک شدگان محنت کش تھے جن کے ورثاء کی مالی امداد کی جائے ، بیوپاریوں کی ہنگامی پریس کانفرنس ۔ تفصیلات کے مطابق؛ میمن گوٹھ ملیر کراچی سے سیہون زیارت کیلئے جانے والے دس افراد کی واپسی پر سیہون کے قریب خطرناک روڈ حادثے کے نتیجے میں آٹھ افراد جن میں 40سالہ محمد زبیر ،55سالہ عبدالغنی ، 48سالہ محمد حنیف ، 42سالہ عبدالحمید ، 28سالہ مشتاق احمد ، 46عبدالغنی مچھلی والہ ، 18سالہ دانیال میمن ، 26سالہ عمران میمن موقع پر ہی ہلاک جبکہ دو افراد 22سالہ ظہیر جلیل میمن اور8 سالہ شہباز میمن شدید زخمی ہوگئے جنہیں کراچی کے نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے ، دووسری طرف گذشتہ رات دیر سے حادثے میں ہلاک آٹھ افراد کی لاشیں میمن گوٹھ ملیر لائی گئیں تو پورے علاقے میں کہرام برپا ہوگیا ، لاشیں دیکھ کر ان کی والدہ بیہوش ہوگئیں ، لاشوں کی حالت انتہائی خراب اور خون کے بہنے سے ورثاء نے ہفتے کے دن صبح ساڑھے چھ بجے تدفین کا اعلان کیا تو ہزاروں افراد پہنچ گئے جنہوں نے جنازے نماز میں شرکت کی اور آہوں اور سسکیوں میں ہلاک شدگان کی تدفین کی ، اس موقع پر ایک بھی قومی ، صوبائی اور بلدیاتی منتخب نمائندے نے جنازے نماز میں شرکت نہیں کی جس سے علاقہ مکین شدید مشتعل ہوگئے ، تدفین کے بعد مختلف محلوں حاجی احمد ، حاجی عبدالکریم ، حاجی امید علی میں تعزیت کیلئے مختلف سیاسی سماجی لوگ آرہے ہیں جن میں حکیم بلوچ ، ساجد جوکھیو ، سلمان عبداللہ مراد ، جان محمد بلوچ ، الہی بخش بکک ، خدا ڈنو شاہ، اشفاق میمن ، خدا ڈنو شاہ ، علی کلمتی ،مجاہد جوکھیو ، یعقوب خاصخیلی ، سامی میمن و دیگر شامل ہیں، دوسری جانب موبائل کمیونیکیشن ایسوسیئیشن کی جانب سے واقعے کے خلاف میمن گوٹھ میں ہڑتال کی گئی جس کے باعث بازاریں اور کاروبار بند ہوگیا ، بیوپاریوں ظفر ، سلمان ، حافظ زوہیب ، جعفر ، ثناء اللہ و دیگر نے حادثے کے اسباب کے خلاف احتجاج مظاہرہ کرتے ہوئے ہنگامی پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے سیہون کے روڈ کی مرمت نہ ہونا ہنگامی بنیادوں پر ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور حکومت کی عدم توجہی کو حادثے کے اسباب قرار دیے ، انہوں نے ملیر سے منتخب نمائندوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ لینے کیلئے رات اندھیرے میں گھروں کو آنے والے نمائندے آج آٹھ لاشیں اٹھنے پر بھی نہیں پہنچ سکے جو ہمارے ووٹوں کی توہین ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے محنت کش اور اپنے گھروں کے واحد کفیل تھے جن کی حکومت اور منتخب نمائندے مالی معاونت کا اعلان کریں ، بصورت دیگر احتجاجی تحریک چلائی جائیگی ۔

Comments

comments